کیا ارطغرل غازی مسلمان تھے

 کیا ارطغرل غازی مسلمان تھے


ناظرین آج ہمارا موضوع ہے کیا ارطغرل غازی مسلمان تھے

سوشل میڈیا پر کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ارطغرل غازی اور ان کے قبیلے کے لوگ تو مسلمان ہی نہیں تھے اس حوالے سے آج کے کالم میں آپ کو مکمل تاریخی حوالوں علمی اور عقلی دلائل کے ساتھ بتایا جائے گا
آرٹیکل مکمل پڑھنے کے بعد آپ کے علم میں اضافہ ہوگا اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ارطغرل غازی مسلمان نہیں تھے آپ ان کو جواب دے سکیں گے ناظریں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ارتغل غازی اور ان کے قبیلے کے لوگ مسلمان نہیں تھے


 وہ تاریخ میں سے دو دلیلیں پیش کرتے ہیں ان کی پہلی رات کی معروف کتاب کیمرج ہسٹری آف ترکی میں سے ہے جس کی تدوین میں فرق اور آسمانی تاریخ پر اتھارٹی پروفیسر ثریا فاروقی معاون مدیر کے طور پر اور ان کے علاوہ دیگر ترک مارفین بھی شامل تھے اس کی پہلی جلد میں ارتغل کا نام صرف ایک جگہ صفحہ نمبر 118 پر آیا ہے



مصنف کے نزدیک ارطغرل کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے اور اس کی موجودگی کا پتا عثمان کے ایک سے چلتا ہے
دوسری دلیل اردو میں اس سلسلے میں سب سے زیادہ معروف اور پڑھی جانے والی کتاب ڈاکٹر محمد عزیر کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب دولت عثمانیہ میں سے ہے یہ کتاب مشہور علمی ادارے دارالمصنفین اعظم گڑھ کی شائع کردہ ہے سید سلیمان ندوی نے لکھا اور اس کتاب کا مقصد مسلمان ہند کو ترکوں کے کارناموں سے روشناس کروانا تھا

 کیا ارطغرل غازی مسلمان تھے
 کیا ارطغرل غازی مسلمان تھے


 ناظرین اس کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اس کتاب میں ڈاکٹر محمد عزیر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ارطغرل اور ان کے قبیلے کے لوگ مسلمان نہیں تھے بلکہ بت پرست تھے اس حوالے سے ہم نے اس کتاب کا مطالعہ کیا اور دیکھا کہ اس کتاب میں ڈاکٹر محمد عزیر نے ارتغل اور ان کے قبیلے کے لوگوں کے متعلق کیا لکھا ہے تاریخ کی اس کتاب میں ڈاکٹر محمد عزیر ایک انگریز مورخ کی شہادتیں پیش کر رہے ہیں اور صفحہ نمبر 21 پر لکھتے ہیں انیس سو سولہ میں مسٹر ہر بار گگن نے اپنی مست تالیف اثاثے سلطنت عثمانیہ کو شائع کرکے یہ تازہ تحقیق پیش کی کہ غربت میں بدھ بازار تیار کرنے کے وقت عثمان اور اس کے قبیلے کے لوگ بت پرست تھے تیرہویں صدی عیسوی کے ابتداء میں خراسان اور ماوراءالنہر کے دوسرے علاقوں کی جو قومیں ایشیائے کوچک کی سرحدوں پر نمودار ہوئی ان کے اسلام لانے کا کوئی سر یہ بھی ذکر کی تاریخ میں نہیں ملتا ان سے پہلے ٹرک حملہ اور جب اس ملک میں داخل ہوئے تو وہ کی پشتو سے عربی اسلام کے زیر اثر رہتے آئے تھے



 چنانچہ السلجوقی بھی مسلمان ہی تھے مگر بعد کے آنے والے ترک جن میں عثمان پیدا ہوا کچھ بہت زیادہ اسلام کے زیر اثر نہیں رہے خود عثمانیوں کے مالک نشر کے بیان سے بھی صاف اشارہ ملتا ہے کہ آسمان کا مورث اعلی سلیمان شاہ اور اس کے ساتھ ہیں جو اپنے وطن سے نکل کھڑے ہوئے تھے اور پچاس ہزار گھرانوں پر مشتمل تھے غیر مسلم تھے وہ کہتا ہے کہ ان میں سے کچھ شامیں ترکمانوں کے آباؤ اجداد تھے اور بقیہ ان تمام خانہ بدوش قوموں کے روم میں ادھر ادھر پھرا کرتی تھی اور خود نشری کے زمانے میں بھی موجود تھی اور اس کے بعد کے سیاحوں کی بکثرت شہادتوں سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ قومیں بت پرستی ناظم یہ ایک انگریز کے دلائل ہیں جبکہ اسی کتاب کے صفحہ نمبر 15 پر ڈاکٹر محمد عزیر نے ارطغرل کے بارے میں لکھا سلطان علاء الدین نے اردو غزل کو اپنے مقدمہ الجیش کا سپہ سالار مقرر کیا حلال سلطان علاوالدین عالم کا نشان تھا اردو غزل طبیب اس کے نائب کی حیثیت سے اس نشان کو اختیار کیا جو آج تک ترکوں کی عظمت کا قومی نشان ہے سو ستاسی ہے مطابق بارہ سو اٹھاسی میں ارطغرل نے 90 سال کی عمر میں انتقال کیا 


اور صحت کے قریب دفن ہوا گوگل کو اپنے مقدمۃ الجیش کا سپہ سالار مقرر کرنا اور اپنا حلال ان کو عطا کرناارطغرل کی وفات کے بعد ان کا دفن ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ارطغرل مسلمان تھے ناظرین تاریخ العالم قبل از اسلام سے لے کر مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر تک ملت اسلامیہ کی تیرہ سو سالہ تاریخ پڑھائی ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل تاریخ کے ملت کی جلد سوم کے صفحہ نمبر 30 پر لکھا ہے امیر ارتغل سلطان علاء الدین کیقباد کی صحبت سے اپنے آبائی مذہب ترک کرکے اسلام کی آغوش میں ماں اپنے قبیلے کے آ گیا تھا


 تو اس نے لڑکوں کو اہل اسلام کے طریقے پر تعلیم و تربیت دلوائی عثمان خود شجاع اور بہادر تھا اسلام کی تعلیم اور اسلامی فضا نے اس میں چار چاند لگا دیے ناظرین تاریخ میں ایسی بےشمار دلیلیں ملتی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ارطغرل غازی اور ان کے قبیلے کے لوگ مسلمان تھےجیسے آپ کی شادی سلجوق سلطنت کی شہزادی حلیمہ سلطان سے ہوئی جو کہ مسلمان سلطنت کی مسلمان شہزادی تھی آپ کے والد کا نام سلیمان شاہ تھا جو کہ عربی اور اسلامی نام ہے آپ نے مسجد تعمیر کروائی اور سلطان عبدالحمید نے دوبارہ مرمت کروائی 


ارطغرل کے ساتھ غازی عبدالرحمن کی قبر موجود ہے جو کہ اس کا جانا تھا تو کیا مسلمان اور بت پرست تھے پڑے ہیں کا قبیلہ تھا جو کہ شاہ خوارزم کا چہیتا قبیلہ تھا اور منگولوں کے ہاتھوں شاہ کی شہادت کے بعد ہجرت کرکے موجودہ ترکی آیا تھا یا پھر شاہ خوارزم بھی برستہ کا سپہ سالار ترگت نورگل جس نے ایک سو پچیس سال اسلام کے لیے جنگیں لڑیں یا ایک بت پرست کا مسلمان سپہ سالار تھا جس نے مسلمانوں کی خلافت کے لئے سو سال جنگوں میں گزار دیے اور 125 سال کی عمر میں شہید ہوئے ارطغرل اگر بت پرستی تو اس کی بیک وقت صلیبیوں اور منگولوں سے جنگ کیوں ہوئی اردو غزل کے نام کے ساتھ غازی کا لفظ موجود ہے اور ماضی صرف اور صرف مسلمانوں کا جنگی نام ہے عبدالمنعم بت پرستوں کا نہیں رکھا جاتا بلکہ مسلمانوں کا ہوتا ہے جیسے تغلبی گزرے ہیں


 ارطغرل غازی جیسے تو مسلمان فاتح سے بتاتا ہے کہ وہ مسلمان تھا ناظرین آپ کو ارطغرل پر بغیر ثبوت کے اعتراض کرنے والے وہی لوگ نظر آئیں گے جو راجہ داہر جیسے معلون اور بت پرست کو شہید اہل بیت اور محمد بن قاسم کو مجاہد ماننے کے بجائے کچھ اور ہی سمجھتے ہیں جو سلطان صلاح الدین ایوبی سلطان شہاب الدین غوری اور سلطان محمود غزنوی جیسے بت شکن مجاہدوں کو دعوت حق اور لٹیرے بولتے ہیں کیونکہ چودہ سو سالہ تاریخ میں ان لبرلز نے کوئی مرد ہو تو پیدا نہیں کیا البتہ غدار ہے غدار بہت پیدا کیا اور کر بھی رہے ہیں

Post a Comment

0 Comments